Sponsored Links
Showing posts with label PML(N). Show all posts

Pakistan President Election 2013 Media Opinion




Ruling party candidate Mamnoon Hussain was elected as the 12th President of Pakistan on Tuesday, replacing Asif Ali Zardari whose five-year term expires in September.
Chief Election Commissioner Fakhruddin G Ebrahim said Hussain received a total of 432 votes from the two houses of Parliament and the four provincial assemblies.
Hussain, a 73-year-old textile businessman from Karachi, will be sworn in on Sept 9 at the presidency due to be vacated by incumbent Asif Ali Zardari.
Source: Dawn.com

صدارتی الیکشن کے نتائج کا اعلان کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) جسٹس فخر الدین جی ابراہیم نے بتایا کہ ممنون حسین نے 432 الیکٹورل ووٹ حاصل کیے ہیں جبکہ ان کے مدِمقابل تحریکِ انصاف کے جسٹس (ر) وجیہہ الدین نے 77 ووٹ حاصل کر سکے۔

 ----------

 

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ نواز اس سے اردو بولنے والی کمیونٹی اور تاجروں کو یہ پیغام دینا چاہتی ہے کہ انھوں نے ان کے نمائندے کا انتخاب کیا ہے۔

میاں نواز شریف کے لیے ممنون حسین بھی رفیق تارڑ کی طرح بے ضرر اور فرماں بردار صدر ثابت ہوں گے۔

ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
Source:BBCurdu.com
-------------------
Legislators chose businessman backed by ruling PML-N party to become country's twelfth president, according to state TV.
Source: Aljazeera
-------------------
Opinion of   انوار فطرت / غلام محی الدین of Express News: source: express.com.pk

آخر میں جب پردہ اٹھایا گیا تو سب یہ دیکھ کر دنگ رہ گئے کہ سامنے ایک ایسی شخصیت کھڑی تھی جو سیاست میں اجنبی محسوس ہوئی، دونوں پہلوؤں سے نام کے حوالے سے بھی اور کام کے حوالے سے بھی۔ بہت کم نے انہیں اس سے پہلے سنا اور بہت کم نے انہیں اس سے پہلے دیکھا۔ ہر چند وہ مسلم لیگ نواز سے ربع صدی سے وابستہ ہیں اور سندھ کی گورنری پر فائز رہے لیکن یہ عرصہ اس قدر مختصر تھا کہ ان کی گورنری ’’جنگل میں مور ناچا‘‘ کی ذیل میں آتی ہے، یہ بھی معلوم ہوا کہ جنابِ ممنون حسین نے مشکل دنوں میں نواز خاندان کا بہت ثابت قدمی سے ساتھ دیا۔

یہ نام بہتوں کے لیے اجنبی ہے تو اس کی وجہ غالباً ان کی کاروباری مصروفیات و محویات رہی ہوں اور یہ بھی کہ وہ کچھ زیادہ سیاسی ذہن کے مالک نہ ہوں، بہت ممکن ہے کہ ان کی یہ مؤخر الذکر صفت انہیں صدارت کے عہدۂ جلیل تک لانے میں زیادہ ممد و معاون رہی ہو، ان کی صورت دیکھ کر ان کی طبیعت کی ’’آمنا و صدقنا‘‘ کیفیت بھی خاصی نمایاں ہے، یقیناً وہ زیادہ بحث و تمحیص اور مین میخ نکالنے کے عادی نہیں ہوں گے۔ ان کے عہدِ صدارت میں مسلم لیگ نواز بالیقین مامون و پرسکون ہے گی۔

---------------------------

Mamnoon Hussain, a veteran Pakistani politician and Prime Minister Nawaz Sharif's trusted ally, was elected president today in a vote by legislators for the largely ceremonial post of head of state.
Source: cbc.ca
----------------------------

Mamnoon Hussain
Former Sindh governor and an alumnus of the Institute of Business Administration, from where he graduated in 1965, Hussain is an old loyalist of Nawaz Sharif and remained with the PML-N during the regime of former military ruler Pervez Musharraf. He served as the governor of Sindh from June to October 1999 and lost the post after the then army chief Gen Pervez Musharraf toppled the PML-N government in a military coup in Oct 1999.
Hussain belongs to Sindh and lives in Karachi, where he owns a textile business. He  was born in Uttar Pradesh, India, in 1940. In 1993, he inched closer to the party leadership when Nawaz contested his own removal from the premier’s office by then president Ghulam Ishaq Khan.
According to analysts, picking Hussain as its presidential candidate would help the party counter the PPP’s claims that the PML-N was accommodating only Punjab-based politicians at offices in the centre. He contested the 2002 elections from NA-250 (Karachi) on PML-N ticket but had no luck. He is also a former president of the Karachi Chamber of Commerce and Industry (KCCI).

Sorce: http://tribune.com.pk/story/583886/polling-to-elect-12th-president-begins/


read more →

Nawaz Shrif Selects a Poor Worker as MPA

Nawaz Shrif Selects a Poor Worker as MPA

Source: Www.Express.Com.Pk
read more →

Character of Nawaz Sharif - Javed Choudhary


Extract from a Column by Javed Choudhry in EXpress News Paper on 27-May-2013

اس دوران میاں نواز شریف کی برداشت جواب دے گئی‘ وہ مہدی صاحب کی طرف مڑے اور انھوں نے غصے سے کہا ’’ مہدی صاحب آپ کو میرے احسانات یاد نہیں آئے‘ میں نے آپ کو کہاں سے اٹھایا اور کہاں پہنچا دیا‘‘ میاں صاحب اس کے بعد اپنے وہ تمام احسانات دہرانے لگے جو انھوں نے مہدی صاحب پر کیے تھے‘ مہدی صاحب چپ چاپ سنتے رہے
وزیراعظم جب تھک گئے تو مہدی صاحب نے ان کی طرف دیکھا اور میاں صاحب سے مخاطب ہوئے ’’ میاں صاحب یاد رکھیں مجھ پر یہ تمام مہربانیاں میرے اللہ نے کی ہیں‘ آپ صرف وسیلہ تھے‘ میں وسیلا بننے پر آپ کا صرف شکریہ ادا کر سکتا ہوں مگر میرا شکر صرف میرے اللہ کی امانت ہے‘‘ یہ سن کر میاں نواز شریف نے چند لمحوں کے لیے منہ پھیر لیا ‘ وہ کھڑکی سے باہر دیکھنے لگے‘ پھر انھوں نے اچانک میرے کندھے پر ہاتھ رکھا اور حکم دیا’’ گاڑی روک دو ‘‘ ہم لوگ اس وقت فیض آباد کے قریب پہنچ چکے تھے‘ فیض آباد کا پل ابھی نہیں بنا تھا اور راول ڈیم چوک سے لے کر فیض آباد تک ویرانہ ہوتا تھا‘ میں نے گھبرا کر سیکریٹری صاحب کی طرف دیکھا‘ وہ بھی انتہائی پریشان تھے‘ ہم پروٹوکول کے ضابطوں کے مطابق وزیراعظم کی گاڑی راستے میں نہیں روک سکتے تھے چنانچہ میں گاڑی چلاتا رہا‘ میاں صاحب نے مجھے دوسری بار سخت لہجے میں حکم دیا’’ گاڑی روکو‘‘ میں نے سعید مہدی کی طرف دیکھا‘ ان کے چہرے پر سکون اور اعتماد تھا‘ وہ ذہنی طور پر ہر قسم کے حالات کا سامنا کرنے کے لیے تیار تھے‘ میں نے گاڑی روک دی‘ ہمارے رکتے ہی پروٹوکول اور سیکیورٹی کی تمام گاڑیاں رک گئیں‘ کمانڈوز نے نیچے کود کر پوزیشن سنبھال لی
میاں صاحب گاڑی سے اترے اور سڑک سے نیچے اتر گئے‘ سامنے جھاڑیاں تھیں‘ وہ جھاڑیوں میں چلے گئے‘ ہم خوف اور پریشانی کے عالم میں انھیں دیکھنے لگے‘ وہ جھاڑیوں میں کیکر کے ایک درخت کے قریب رکے‘ کانوں تک ہاتھ اٹھائے اور نماز شروع کر دی‘ وہ ننگی زمین پر رکوع بھی کر رہے تھے اور سجدے بھی اور ہم لوگ انھیں بلندی سے دیکھ رہے تھے‘ ہم میں سے کسی میں نیچے اترنے کی ہمت نہیں تھی‘ وزیراعظم نے دو نفل پڑھے‘ دعا کی اور واپس آ گئے‘ ان کے کپڑے اور جوتے گندے ہو چکے تھے‘ ہمارا قافلہ چل پڑا‘ گاڑی میں مکمل خاموشی تھی‘ سیکریٹری صاحب نے ذرا سی ہمت کی اور گیلے ٹشوز کا ڈبہ ان کی طرف بڑھا دیا‘ میاں صاحب نے ایک ٹشو اٹھایا اور سعید مہدی سے مخاطب ہوئے ’’ مہدی صاحب میں معافی چاہتا ہوں‘ میں غصے میں بڑا بول بول گیا تھا‘ آپ کی بات درست تھی ہم انسان کسی کو کچھ نہیں دے سکتے‘ ہم صرف وسیلہ بنتے ہیں‘ مجھے محسوس ہوا میں تکبر میں آ گیا ہوں چنانچہ میں نے فوراً توبہ کے دو نفل ادا کیے‘ آپ بھی مجھے معاف کر دیں‘‘۔ یہ سن کر سعید مہدی کی آنکھوں میں آنسو آ گئے‘ انھوں نے ٹشو اٹھا کر آنکھوں پر رکھ لیا‘ میاں صاحب ائیر پورٹ   پر اترے‘ جہاز پر بیٹھے اور لاہور روانہ ہو گئے 
Detail: http://www.express.pk/story/131911/
read more →